حدیث نمبر: 12101
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى الْقُرَشِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ فَرُّوخَ مَوْلَى طَلْحَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ سُئِلَتْ عَنِ الْتِقَاطِ السَّوْطِ، فَقَالَتْ: " يَلْتَقِطُ سَوْطَ أَخِيهِ يَصِلُ بِهِ يَدَيْهِ، مَا أَرَى بَأْسًا "، قَالَ: وَالْحَبْلُ؟ قَالَتْ: " وَالْحَبْلُ "، قَالَ: وَالْحِذَاءُ؟ قَالَتْ: " وَالْحِذَاءُ "، قَالَ: وَالْوِعَاءُ؟ قَالَتْ: " لَا أُحِلُّ مَا حَرَّمَ اللهُ، الْوِعَاءُ يَكُونُ فِيهِ النَّفَقَةُ، وَيَكُونُ فِيهِ الْمَتَاعُ ".
حافظ ثناء اللہ

طلحہ کے غلام فروخ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا، ان سے کوڑے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: اپنے بھائی کا کوڑا کسی کو ملے تو وہ اسے اٹھا لے۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اس نے کہا: رسی؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، اس نے پوچھا: کوئی برتن؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: برتن میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، اس میں خرچ ہے اور فائدہ ہے، حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کوڑے، چھڑی اور چمڑے میں رخصت دی اگر کسی کو مل جائے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللقطة / حدیث: 12101
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»