السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: ما جاء في قليل اللقطة باب: تھوڑی مقدار والے لقطہ کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12097
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ الْقَزَّازُ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى تَمْرَةٍ فِي الطَّرِيقِ مَطْرُوحَةٍ فَقَالَ: " لَوْلَا أَنِّي أَخْشَى أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ لَأَكَلْتُهَا ".حافظ ثناء اللہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک کھجور کے پاس سے گزرے جو راستے میں پڑی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہے تو میں اسے کھا لیتا۔“ راوی کہتے ہیں: ابن عمر رضی اللہ عنہما راستے میں پڑی ہوئی ایک کھجور کے پاس سے گزرے تو اسے کھا لیا۔
ہم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں گھر میں داخل ہوتا ہوں، اپنے بستر پر پڑی کھجور پاتا ہوں“ اور ایک روایت میں ہے کہ ”میں نہیں جانتا یہ کھجور صدقہ کی ہے یا گھر کی، میں اسے چھوڑ دیتا ہوں“ اور یہ لقطہ کے حکم میں نہیں آتی۔