❮
❯
حدیث نمبر: 12087
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ يَعْنِي الْأَزْرَقَ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ، أَنَّهُ كَانَ فِي غَزْوَةٍ فَوَجَدَ سَوْطًا فَأَخَذَهُ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ: اطْرَحْهُ، قَالَ: فَأَبَيْتُ عَلَيْهِمَا، فَقَضَيْنَا غَزَاتَنَا ثُمَّ حَجَجْتُ فَمَرَرْتُ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَيْتُ أُبِيَّ بْنَ كَعْبٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ صُرَّةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " عَرِّفْهَا حَوْلًا "، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يَعْرِفُهَا، فَعُدْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ: " احْفَظْ عِدَّتَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا "، قَالَ: فَاسْتَمْتَعْتُ بِهَا قَالَ سَلَمَةُ: لَا أَدْرِي عَرَّفَهَا حَوْلًا إِلَى ثَلَاثَةِ أَحْوَالٍ، أَوْ فِي الْحَوْلِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ..
حافظ ثناء اللہ

سلمہ بن کہیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سوید بن غفلہ رحمہ اللہ سے سنا کہ وہ ایک غزوہ میں تھے، انہیں ایک کوڑا ملا تو انہوں نے اسے اٹھا لیا۔ زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہما نے کہا: اسے پھینک دو۔ وہ کہتے ہیں: میں نے ان دونوں کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ ہم نے اپنا غزوہ مکمل کیا، پھر میں نے حج کیا اور مدینہ سے گزرا تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے یہ بات ذکر کی۔ انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک تھیلی ملی جس میں سو دینار تھے، میں نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔“ میں نے ایک سال تک اعلان کیا لیکن کوئی ایسا نہ ملا جو اسے پہچانتا، میں دوبارہ آپ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے تین مرتبہ یہی فرمایا، پھر فرمایا: ”اس کی تعداد، اس کا برتن اور اس کا بندھن یاد رکھو، اگر اس کا مالک آ جائے (تو اسے دے دینا) ورنہ اس سے فائدہ اٹھاؤ۔“ وہ کہتے ہیں: چنانچہ میں نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے ایک سال سے تین سال تک اس کا اعلان کیا یا ایک ہی سال میں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللقطة / حدیث: 12087
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»