❮
❯
حدیث نمبر: 12076
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ قَالَ: سَمِعْتُ أَعْرَابِيًّا مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ سَأَلَهُ، يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الضَّوَالِّ فَقَالَ: مَا تَرَى فِي الضَّوَالِّ؟ قَالَ: " مَنْ أَكَلَ مِنَ الضَّوَالِّ فَهُوَ ضَالٌّ "، قَالَ: مَا تَرَى فِي الضَّوَالِّ؟ قَالَ: " مَنْ أَكَلَ مِنَ الضَّوَالِّ فَهُوَ ضَالٌّ "، ثُمَّ سَكَتَ الرَّجُلُ، وَأَخَذَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُفْتِي النَّاسَ، يَقُولُ أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ: فَتْوًى كَثِيرَةً لَا أَحْفَظُهَا، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: أُرَاكَ قَدْ ⦗٣١٦⦘ أَصْدَرْتَ النَّاسَ غَيْرِي، أَفَتَرَى لِي نَوْبَةً؟ قَالَ: " وَيْلَكَ لَا تَسْأَلْ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ، قَالَ: وَمَا أَشَدَّ مَسْأَلَتَكَ، قَالَ: اسْتَغْفِرِ اللهَ وَأَقْرِبْ إِلَيْهِ وَأَجِلَّ مَا صَنَعْتَ، قَالَ: أَتَدْرِي فِيمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إَنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} [المائدة: ١٠١] حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ كُلِّهَا، قَالَ: كَانَ قَوْمٌ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتِهْزَاءً، فَيَقُولُ الرَّجُلُ: مَنْ أَبِي؟ وَيَقُولُ الرَّجُلُ تَضِلُّ نَاقَتُهُ: أَيْنَ نَاقَتِي؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ هَذِهِ الْآيَةَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ سَهْلٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ

ابوالجویریہ سے روایت ہے کہ میں نے بنی سلیم کے ایک دیہاتی سے سنا، اس نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے گمشدہ جانوروں کے بارے میں سوال کیا: گمشدہ جانوروں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: جس نے گمشدہ جانوروں میں سے کھایا وہ گمراہ ہے۔ اس نے پھر پوچھا: گمشدہ جانوروں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے فرمایا: جس نے گمشدہ جانوروں میں سے کھایا وہ گمراہ ہے۔ پھر وہ آدمی خاموش ہوگیا اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما لوگوں کو فتویٰ دینے میں مصروف ہوگئے، ابوالجویریہ کہتے ہیں: بہت سے فتوے، جنہیں میں یاد نہیں رکھ سکا۔ دیہاتی نے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ آپ نے میرے علاوہ سب لوگوں کو (جواب دے کر) فارغ کر دیا ہے، کیا آپ کے خیال میں میری بھی باری ہے؟ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تیری ہلاکت ہو! یہ سوال نہ کر، اور کہا: تیرا سوال کتنا سنگین ہے! اور کہا: اللہ سے استغفار کر، اس کی طرف رجوع کر اور جو تو نے کیا ہے اسے بڑا (گناہ) سمجھ۔ (پھر) کہا: کیا تو جانتا ہے یہ آیت کس بارے میں نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ﴾ [سورة المائدة: 101] ﴿اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو اگر وہ تمہارے لیے ظاہر کردی جائیں تو تمہیں نقصان پہنچے﴾۔ جب آیت پڑھ کر فارغ ہوئے تو کہا: لوگ رسول اللہ ﷺ سے مذاقاً سوال کرتے تھے، آدمی کہتا: میرا باپ کون ہے؟ اور جس آدمی کی اونٹنی گم ہو جاتی وہ کہتا: میری اونٹنی کہاں ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللقطة / حدیث: 12076
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 4622
تخریج حدیث «بخاري 4622»