السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: ما يجوز له أخذه وما لا يجوز مما يجده باب: ملنے والی چیزوں میں سے جن کا اٹھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں ان کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ قَالَ: سَمِعْتُ أَعْرَابِيًّا مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ سَأَلَهُ، يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الضَّوَالِّ فَقَالَ: مَا تَرَى فِي الضَّوَالِّ؟ قَالَ: " مَنْ أَكَلَ مِنَ الضَّوَالِّ فَهُوَ ضَالٌّ "، قَالَ: مَا تَرَى فِي الضَّوَالِّ؟ قَالَ: " مَنْ أَكَلَ مِنَ الضَّوَالِّ فَهُوَ ضَالٌّ "، ثُمَّ سَكَتَ الرَّجُلُ، وَأَخَذَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُفْتِي النَّاسَ، يَقُولُ أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ: فَتْوًى كَثِيرَةً لَا أَحْفَظُهَا، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: أُرَاكَ قَدْ ⦗٣١٦⦘ أَصْدَرْتَ النَّاسَ غَيْرِي، أَفَتَرَى لِي نَوْبَةً؟ قَالَ: " وَيْلَكَ لَا تَسْأَلْ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ، قَالَ: وَمَا أَشَدَّ مَسْأَلَتَكَ، قَالَ: اسْتَغْفِرِ اللهَ وَأَقْرِبْ إِلَيْهِ وَأَجِلَّ مَا صَنَعْتَ، قَالَ: أَتَدْرِي فِيمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إَنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} [المائدة: ١٠١] حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ كُلِّهَا، قَالَ: كَانَ قَوْمٌ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتِهْزَاءً، فَيَقُولُ الرَّجُلُ: مَنْ أَبِي؟ وَيَقُولُ الرَّجُلُ تَضِلُّ نَاقَتُهُ: أَيْنَ نَاقَتِي؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ هَذِهِ الْآيَةَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ سَهْلٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مُخْتَصَرًا.ابوالجویریہ سے روایت ہے کہ میں نے بنی سلیم کے ایک دیہاتی سے سنا، اس نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے گمشدہ چیز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: جس نے گمشدہ چیز سے کھایا وہ گمراہ ہے، پھر وہ آدمی خاموش ہوگیا اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما لوگوں میں فتویٰ دینے میں مصروف ہوگئے، ابوالجویریہ کہتے ہیں: وہ بہت زیادہ فتوے دیتے تھے، جنہیں میں یاد نہیں رکھ سکا۔ دیہاتی نے کہا: میں خیال کرتا ہوں کہ آپ ﷺ نے میرے علاوہ لوگوں کو روکا ہوا ہے، آپ کے خیال میں میرے لیے توبہ ہے؟ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تیری ہلاکت ہو! اس بارے میں سوال نہ کر اور کہا: تیرا مسئلہ کیا ہے؟ اس نے کہا: میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں جب سے میں نے یہ کام کیا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تو جانتا ہے یہ آیت کس بارے میں نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ﴾ [سورة المائدة: 101] ﴿اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو اگر وہ تمہارے لیے ظاہر کردی جائیں تو تمہیں نقصان پہنچے﴾۔ جب آیت پڑھ کر فارغ ہوئے تو کہا: لوگ رسول اللہ ﷺ سے مذاقاً سوال کرتے تھے، آدمی کہتا: میرا باپ کون ہے؟ یا کہتا: میری اونٹنی گم ہوگئی ہے، میری اونٹنی کہاں ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔