السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: ما يجوز له أخذه وما لا يجوز مما يجده باب: ملنے والی چیزوں میں سے جن کا اٹھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں ان کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ بْنِ أَعْيَنَ الْمِصْرِيُّ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَسُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُهُمْ، أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمْ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: " اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهَا "، قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ: " لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ "، قَالَ: فَضَالَّةُ الْإِبِلِ؟ قَالَ: " مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا، وَتَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ وَالثَّوْرِيِّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ ثَلَاثَتِهِمْ.سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں آپ ﷺ کے ساتھ تھا، اس نے آپ ﷺ سے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی تھیلی اور اس کے بندھن کو پہچان لو، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو، اگر اس کا مالک آ جائے (تو اسے دے دو) ورنہ وہ تیرے اختیار میں ہے۔“ اس نے پوچھا: گم شدہ بکری؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے۔“ اس نے پوچھا: گم شدہ اونٹ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے ساتھ اس کے کھر اور اس کی سیرابی کا سامان ہے، وہ پانی پر جاتا ہے اور درختوں کے پتے کھاتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لے۔“