السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: اللقطة يأكلها الغني والفقير إذا لم تعترف بعد تعريف سنة باب: مالدار اور فقیر کا لقطہ کو استعمال کر لینا جب ایک سال تک اعلان کرنے کے بعد اسے پہچانا نہ جا سکے
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ عَمْرٍو وَعَاصِمٍ ابْنَىْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللهِ وَجَدَ عَيْبَةً، فَأَتَى بِهَا ⦗٣١٠⦘ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ عُرِفَتْ فَذَاكَ، وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ، فَلَمْ تُعْرَفْ " فَلَقِيَهُ بِهَا الْقَابِلَ فِي الْمَوْسِمِ فَذَكَرَهَا لَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: " هِيَ لَكَ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِذَلِكَ "، قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهَا، فَقَبَضَهَا عُمَرُ فَجَعَلَهَا فِي بَيْتِ الْمَالِ وَرُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْهَا عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَتْ: اسْتَمْتِعِي بِهَا.سیدنا سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ایک تھیلا ملا، وہ اسے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر آئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کرو، اگر وہ پہچان لیا جائے تو ٹھیک، ورنہ وہ تیرا ہے۔“ وہ پہچانا نہ گیا تو اگلے سال (حج کے) موسم میں وہ اسے لے کر ان سے ملے اور ان سے اس کا ذکر کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ تیرا ہے، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔“ انہوں نے کہا: مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے لے کر بیت المال میں رکھ دیا۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت بھی منقول ہے کہ ان سے گری پڑی چیز کے بارے میں ایک عورت نے سوال کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”تو اس سے فائدہ اٹھا۔“