السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: اللقطة يأكلها الغني والفقير إذا لم تعترف بعد تعريف سنة باب: مالدار اور فقیر کا لقطہ کو استعمال کر لینا جب ایک سال تک اعلان کرنے کے بعد اسے پہچانا نہ جا سکے
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو حَامِدٍ ⦗٣٠٨⦘ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشَّاةِ الضَّالَّةِ، فَقَالَ: " لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ "، وَسُئِلَ عَنِ الْبَعِيرِ، فَغَضِبَ وَاحْمَرَّ وَجْهُهُ فَقَالَ: " مَعَهُ سِقَاؤُهُ وَحِذَاؤُهُ، يَرِدُ الْمَاءَ، وَيَرْعَى الشَّجَرَ "، وَسُئِلَ عَنِ النَّفَقَةِ، فَقَالَ: " تُعَرِّفُهَا حَوْلًا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا دَفَعْتَهَا إِلَيْهِ، وَإِلَّا عَرَفْتَ وِكَاءَهَا أَوْ عِفَاصَهَا ثُمَّ أَفَضْتَهَا فِي مَالِكَ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا دَفَعْتَهَا إِلَيْهِ ".سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے گم شدہ بکری کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے ہے۔“ اور اونٹ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور غصے میں آ گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے پاس اس کا سیراب کرنے کا سامان اور اس کا گھر ہے، وہ پانی پی سکتا ہے، درختوں سے پتے کھا سکتا ہے۔“ اور خرچ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کا ایک سال تک اعلان کر۔ اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دو، ورنہ اس کے بندھن اور تھیلی کو اچھی طرح پہچان لو اور پھر اپنے مال میں شامل کر لو؛ اگر اس کا مالک آ جائے تو دے دینا۔“