حدیث نمبر: 12016
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنَ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ يُعْطِي عَطِيَّةً ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدُ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ، وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي عَطِيَّةً ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا مَثَلُ الْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی آدمی کے لیے حلال نہیں کہ وہ عطیہ دے، پھر اسے واپس لے لے، سوائے والد کے جو اولاد کو عطیہ دیتا ہے، اور اس شخص کی مثال جو عطیہ دیتا ہے، پھر اسے واپس لے لیتا ہے، کتے کی طرح ہے جو کھاتا ہے یہاں تک کہ جب سیر ہو جاتا ہے تو قے کرتا ہے، پھر قے کی طرف لوٹتا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الهبات / حدیث: 12016
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»