السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الهبات— ہبہ کا بیان
باب: رجوع الوالد فيما وهب من ولده باب: باپ کا اپنی اولاد کو ہبہ کی ہوئی چیز واپس لینے کا بیان
حدیث نمبر: 12010
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدُ فِيمَا يُعْطِيهِ وَلَدَهُ، وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَالْكَلْبِ يَأَكُلُ حَتَّى إِذَا شَبِعَ تَقِيَّأَ، ثُمَّ عَادَ فَرَجَعَ فِي قَيْئِهِ " ⦗٢٩٧⦘.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما دونوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ عطیہ دے، پھر اسے واپس لے لے، سوائے والد کے جو اپنی اولاد کو عطیہ دیتا ہے اور اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر واپس لے لیتا ہے کتے کی طرح ہے کہ جب وہ کھا کر سیر ہو جاتا ہے تو قے کر دیتا ہے اور پھر اس قے کو چاٹ جاتا ہے۔“