السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الهبات— ہبہ کا بیان
باب: ما يستدل به على أن أمره بالتسوية بينهم في العطية على الاختيار دون الإيجاب باب: اس بات پر استدلال کہ آپ ﷺ کا اولاد کے درمیان عطیے میں برابری کرنے کا حکم اختیار پر مبنی ہے نہ کہ وجوب پر
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: جَاءَ بِي أَبِي يَحْمِلُنِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اشْهَدْ أَنِّي نَحَلْتُ النُّعْمَانَ مِنْ مَالِي كَذَا وَكَذَا، قَالَ: " كُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ مِثْلَ الَّذِي نَحَلْتَ النُّعْمَانَ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي، أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً؟ " قَالَ: بَلَى، قَالَ: " فَلَا إِذًا " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُغِيرَةُ عَنِ الشَّعْبِيِّ: " أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ وَاللُّطْفِ سَوَاءً؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي ".سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میرے والد مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ گواہ بن جائیں کہ میں نے نعمان کو اپنے مال سے اتنا عطیہ دیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے اپنے سارے بیٹوں کو عطیہ دیا ہے، جس طرح نعمان کو دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو، کیا تجھے پسند نہیں کہ وہ تیرے لیے نیکی میں سب برابر ہوں؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس وقت نہیں۔“
شعبی رحمہ اللہ کے الفاظ ہیں: ”کیا تجھے پسند نہیں کہ وہ تیرے لیے نیکی اور کرم میں برابر ہوں؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔“