❮
❯
حدیث نمبر: 11991
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: " الْعُمْرَى أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: هُوَ لَكَ مَا عِشْتَ، فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ فَهُوَ لَهُ وَلِوَرَثَتِهِ، وَالرُّقْبَى أَنْ يَقُولَ الْإِنْسَانُ: هُوَ لِآخِرِ مَنْ بَقِيَ مِنِّي وَمِنْكَ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَانَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ يَذْهَبُ فِي الْقَدِيمِ إِلَى ظَاهِرِ مَا رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، وَهُوَ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ وَلِعَقِبِهِ، فَإِنْ جَعَلَهَا لَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ عَقِبَهُ، قَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: هِيَ بَاطِلَةٌ، وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ: إِذَا مَاتَ الْمُعْمَرُ رَجَعَتْ إِلَى الْمُعْمِرِ، ثُمَّ ذَهَبَ فِي الْجَدِيدِ إِلَى سَائِرِ الرِّوَايَاتِ الَّتِي دَلَّتْ عَلَى أَنَّهُ إِذَا جَعَلَهَا لَهُ حَيَاتَهُ وَسَلَّمَهَا إِلَيْهِ كَانَتْ لَهُ وَلِعَقِبِهِ، وَهَذَا هُوَ الْمَذْهَبُ، وَكَذَلِكَ فِي الرُّقْبَى.
حافظ ثناء اللہ

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمریٰ یہ ہے کہ آدمی کسی دوسرے سے کہے: وہ تیرا ہے جب تک تو زندہ ہے۔ جب اسی طرح کہے تو وہ اس کا اور اس کے وارثوں کا ہو جائے گا اور رقبیٰ یہ ہے کہ آدمی کہے: وہ دونوں میں سے بعد میں فوت ہونے والے کا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ کا قدیم مذہب زہری کی روایت کے ظاہر کے مطابق یہ ہے کہ وہ اس کے لیے اور اس کے ورثاء کے لیے کر دے۔ اگر اس نے ورثاء کا ذکر نہ کیا تو ایک جگہ پر کہا کہ یہ باطل ہے اور دوسری جگہ پر کہا: جب معمَر (جسے دیا گیا) فوت ہو جائے تو واپس معمِر (دینے والے) کی طرف لوٹ آئے گا، پھر ان کا جدید مذہب یہ ہے کہ جب اس نے اس کی زندگی میں دے دیا اور اس کے سپرد کر دیا تو وہ اس کا اور اس کے ورثاء کا ہو گا۔ یہی مذہب ہے اور رقبیٰ میں بھی اسی طرح ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الهبات / حدیث: 11991
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ابوداود 3560»