السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوقف— راہ الہی میں وقف سے متعلقہ احادیث
باب: من قال: لا حبس عن فرائض الله عز وجل باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے کہا کہ اللہ عزوجل کے مقرر کردہ فرائض (وراثت) سے روکنے کے لیے کوئی وقف نہیں ہے
حدیث نمبر: 11912
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: اجْتَمَعَ مَالِكٌ وَأَبُو يُوسُفَ عِنْدَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَتَكَلَّمَا فِي الْوُقُوفِ وَمَا يَحْبِسُهُ النَّاسُ، فَقَالَ يَعْقُوبُ: هَذَا بَاطِلٌ، قَالَ شُرَيْحٌ: جَاءَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِطْلَاقِ الْحَبْسِ، فَقَالَ مَالِكٌ: إِنَّمَا جَاءَ مُحَمَّدٌ صَلَّى الله عَلَيْهِ وآله وَسَلَّمَ بِإِطْلَاقِ مَا كَانُوا يَحْبِسُونَهُ لِآلِهَتِهِمْ مِنَ الْبَحِيرَةِ وَالسَّائِبَةِ، فَأَمَّا الْوُقُوفُ فَهَذَا وَقْفُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَيْثُ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " احْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَتَهَا " وَهَذَا وَقْفُ الزُّبَيْرِ. فَأَعْجَبَ الْخَلِيفَةَ ذَلِكَ مِنْهُ، وَبَقِيَ يَعْقُوبُ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبداللہ بن حکم فرماتے ہیں: میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے تھے: امام مالک اور امام ابو یوسف امیر المؤمنین کے پاس جمع ہوئے۔ وہ دونوں وقف اور لوگ جو روکتے ہیں اس بارے میں باتیں کرنے لگے۔ یعقوب نے کہا: یہ باطل ہے، شریح نے کہا: محمد ﷺ حبس کو توڑنے آئے ہیں۔ مالک نے کہا: محمد ﷺ بحیرہ، سائبہ جن کو لوگ روک لیتے ہیں اسے توڑنے آئے ہیں۔ رہا وقف کرنا یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا وقف ہے۔ انہوں نے نبی ﷺ سے اجازت مانگی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اصل کو روک لے اور اس کا پھل اللہ کے راستے میں وقف کر دے“ اور یہ زبیر کا وقف ہے، خلیفہ کو تعجب ہوا اور یعقوب باقی رہ گئے۔