حدیث نمبر: 11911
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: قَالَ مَالِكٌ: " الْحَبْسُ الَّذِي جَاءَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِطْلَاقِهِ هُوَ الَّذِي فِي كِتَابِ اللهِ {مَا جَعَلَ اللهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلَا سَائِبَةٍ وَلَا وَصِيلَةٍ وَلَا حَامٍ} [المائدة: ١٠٣] " قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ: كَلَّمَ بِهِ مَالِكٌ أَبَا يُوسُفَ عِنْدَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ.
حافظ ثناء اللہ

امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: حبس جو محمد ﷺ لے کر آئے ہیں وہی ہے جو اللہ کی کتاب میں ہے ﴿مَا جَعَلَ اللَّـهُ مِن بَحِيرَةٍ﴾ [سورة المائدة: 103] ”اللہ نے بحیرہ مقرر نہیں کیا (جس اونٹنی کا کان کاٹ دیا جائے) اور نہ سائبہ (وہ جانور جو سن رسیدہ ہو جائے) اور نہ وصیلہ (اوپر تلے بچے دینے والی مادہ) اور نہ حام (جب اونٹ خاص حالت کو پہنچ جاتا تو اس پر سواری نہ کرتے اور نہ سامان لادتے)۔“ امام مالک رحمہ اللہ نے اس بارے میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے امیر المومنین کے سامنے گفتگو کی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوقف / حدیث: 11911
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»