السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوقف— راہ الہی میں وقف سے متعلقہ احادیث
باب: وقف المشاع باب: مشترکہ (غیر تقسیم شدہ) جائیداد کو وقف کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 11904
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ مَلَكَ مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ خَيْبَرَ اشْتَرَاهَا، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ مَالًا لَمْ أُصِبْ مِثْلَهُ قَطُّ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: " حَبْسُ الْأَصْلِ، وَسَبْلُ الثَّمَرَةِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خیبر میں ایک سو حصوں کے مالک بنے، اسے خریدا پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے مال پہنچا ہے جس جیسی کوئی چیز نہیں ملی اور میرا ارادہ ہے کہ اس سے اللہ کا تقرب حاصل کروں“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اصل کو روک لے اور پھل کو اللہ کے راستے میں وقف کر دے۔“