السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوقف— راہ الہی میں وقف سے متعلقہ احادیث
باب: جواز الصدقة المحرمة وإن لم تقبض باب: حرام (موقوفہ) صدقہ کے جواز کے بیان میں، اگرچہ اس پر قبضہ نہ کیا گیا ہو
حدیث نمبر: 11903
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عِيسَى بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " فُرِغَ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنَ الْخَلْقِ، وَالْخُلُقِ، وَالرِّزْقِ، وَالْأَجَلِ، فَلَيْسَ أَحَدٌ أَكْسَبَ مِنْ أَحَدٍ، وَالصَّدَقَةُ جَائِزَةٌ قُبِضَتْ أَوْ لَمْ تُقْبَضْ ".حافظ ثناء اللہ
قاسم بن عبدالرحمن رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا: چار چیزوں سے فارغ کر دیا گیا ہے: خلق سے (مخلوق)، اخلاق سے، رزق سے اور موت سے۔ کوئی کسی سے کمانے والا نہیں ہے اور صدقہ جائز ہے، لیا جائے یا نہ لیا جائے۔