السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوقف— راہ الہی میں وقف سے متعلقہ احادیث
باب: الصدقات المحرمات باب: ان صدقات کے بیان میں جنہیں (فروخت کرنے یا ہبہ کرنے سے) حرام قرار دے کر وقف کر دیا گیا ہو
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَطَعَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَنْبُعَ، ثُمَّ اشْتَرَى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى قَطِيعَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَشْيَاءَ، فَحَفَرَ فِيهَا عَيْنًا، فَبَيْنَا هُمْ يَعْمَلُونَ فِيهَا إِذْ تَفَجَّرَ عَلَيْهِمْ مِثْلُ عُنُقِ الْجَزُورِ مِنَ الْمَاءِ، فَأُتِيَ عَلِيٌّ وَبُشِّرَ بِذَلِكَ، قَالَ: " بَشِّرِ الْوَارِثَ " ثُمَّ تَصَدَّقَ بِهَا عَلَى الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَفِي ⦗٢٦٦⦘ سَبِيلِ اللهِ وَابْنِ السَّبِيلِ الْقَرِيبِ وَالْبَعِيدِ وَفِي السِّلْمِ وَفِي الْحَرْبِ، لِيَوْمٍ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ؛ لِيَصْرِفَ اللهُ تَعَالَى بِهَا وَجْهِي عَنِ النَّارِ، وَيَصْرِفَ النَّارَ عَنْ وَجْهِي وَرُوِّينَا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ أَنَّ عُمَرَ وَعَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَقَفَا أَرْضًا لَهُمَا بِتَابَتَلَا.جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے ایک کنویں کی جاگیر دی، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی جاگیر بھی خرید لی، اس میں ایک چشمہ بنایا، وہ اس میں کام کر رہے تھے کہ اونٹ کی گردن کی مثل کوئی چیز نکلی، اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اور خوشخبری دی گئی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”وارث کو خوشخبری دو“، پھر اس کو فقراء، مساکین، اللہ کے راستے میں، مسافر اگرچہ قریبی ہو یا دور کا، حالتِ امن میں ہو یا جنگ میں، سب کے لیے صدقہ کر دیا تاکہ اللہ تعالیٰ میرے چہرے سے آگ پھیر دے۔