❮
❯
حدیث نمبر: 11893
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ صَدَقَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: نَسَخَهَا لِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي ثَمْغٍ، أَنَّهُ إِلَى حَفْصَةَ مَا عَاشَتْ تُنْفِقُ ثَمَرَهُ حَيْثُ أَرَاهَا اللهُ، فَإِنْ تُوُفِّيَتْ فَإِنَّهُ إِلَى ذِي الرَّأْيِ مِنْ أَهْلِهَا، لَا يُشْرَى أَصْلُهُ أَبَدًا، وَلَا يُوهَبُ، وَمَنْ وَلِيَهُ فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ فِي ثَمَرِهِ إِنْ أَكَلَ أَوْ أَكَّلَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا، فَمَا عَفَا عَنْهُ مِنْ ثَمَرِهِ فَهُوَ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ وَالضَّيْفِ وَذَوِي الْقُرْبَى وَابْنِ السَّبِيلِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ، تُنْفِقُهُ حَيْثُ أَرَاهَا اللهُ مِنْ ذَلِكَ، فَإِنْ تُوُفِّيَتْ فَإِلَى ذِي الرَّأْيِ مِنْ وَلَدِي، وَالْمِائَةُ الْوَسْقِ الَّذِي أَطْعَمَنِي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْوَادِي بِيَدِي لَمْ أُهْلِكْهَا، فَإِنَّهُ مَعَ ثَمْغٍ عَلَى سُنَنِهِ الَّتِي أَمَرْتُ بِهَا، وَإِنْ شَاءَ وَلِيُّ ثَمْغٍ اشْتَرَى مِنْ ثَمَرِهِ رَقِيقًا لِعَمَلِهِ. وَكَتَبَ مُعَيْقِيبٌ، وَشَهِدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْأَرْقَمِ: " بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ ⦗٢٦٥⦘ عَبْدُ اللهِ عُمَرُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ إِنْ حَدَثَ بِهِ حَدَثٌ أَنَّ ثَمْغًا، وَصِرْمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ، وَالْعَبْدَ الَّذِي فِيهِ، وَالْمِائَةَ السَّهْمِ الَّذِي بِخَيْبَرَ، وَرَقِيقَهُ الَّذِي فِيهِ، وَالْمِائَةَ، يَعْنِي الْوَسْقَ الَّذِي أَطْعَمَهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلِيهِ حَفْصَةُ مَا عَاشَتْ، ثُمَّ يَلِيهِ ذُو الرَّأْيِ مِنْ أَهْلِهَا، لَا يُبَاعُ وَلَا يُشْتَرَى، يُنْفِقُهُ حَيْثُ رَأَى مِنَ السَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ وَذَوِي الْقُرْبَى، وَلَا حَرَجَ عَلَى وَلِيِّهِ إِنْ أَكَلَ أَوْ أَكَّلَ، أَوِ اشْتَرَى لَهُ رَقِيقًا مِنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ثمغ والا مال حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے لیے تھا، جب تک وہ زندہ رہیں، اس کا پھل وہاں خرچ کریں گی جہاں اللہ انہیں سجھائے، پس اگر وہ فوت ہو جائیں تو وہ ان کے خاندان میں سے زیادہ عقل مند کی طرف منتقل ہو جائے گا، اس کی کبھی بیع نہیں کی جائے گی اور نہ ہبہ کیا جائے گا اور جو اس کا والی ہو گا، اس پر اس کا پھل معروف طریقے سے کھانے یا کسی دوست کو کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہو گا، بشرطیکہ وہ مال جمع نہ کرے، جو پھل بچے وہ سائل، محروم، مہمان، رشتہ داروں، مسافر اور اللہ کے راستے میں خرچ کیا جائے گا۔ پس اگر (حفصہ) فوت ہو جائیں تو میری اولاد میں سے عقل مند کی طرف لوٹ جائے گا اور ایک سو وسق جو رسول اللہ ﷺ نے وادی میں کھلائے انہیں کبھی ختم نہیں کروں گا اور وہ ثمغ کے ساتھ اسی طریقے پر رہیں گے جس کا میں نے حکم دیا ہے۔ اگر ثمغ کا والی چاہے اس کے پھل سے کام کرنے کے لیے غلام خرید سکتا ہے اور معیقیب نے لکھا، عبداللہ بن ارقم اس پر گواہ تھے: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“، یہ وہ ہے جو اللہ کے بندے عمر نے وصیت کی: اگر وہ فوت ہو جائے بیشک ثمغ اور صرمہ بن اکوع اور وہ بندہ جو اس میں ہو اور ایک سو حصے خیبر والے اور اس کا غلام اور ایک سو وسق جو محمد ﷺ نے کھلایا، حفصہ کے پاس ہے۔ جب تک وہ زندہ ہے پھر اس کو ملے گا جو اس کے اہل میں سے عقل مند ہو۔ نہ بیچا جائے گا اور نہ خریدا جائے گا۔ وہ اس سے خرچ کرے گا، جب دیکھے گا کہ کوئی سائل، محروم، رشتہ دار ہو اور اس کے والی پر کوئی حرج نہیں کہ اس سے کھا لے یا کھلا دے یا کوئی غلام خرید لے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوقف / حدیث: 11893
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»