السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ذكر الأخبار التي يتفرق بها الكلب عن غيره على طريق الاختصار باب: اختصار کے ساتھ ان احادیث کا ذکر جن کے ذریعے کتے کا حکم دیگر جانوروں سے مختلف ہوتا ہے
حدیث نمبر: 1185
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، ثُمَّ قَالَ: " مَا لَكُمْ وَلَهَا " فَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَكَلْبِ الْغَنَمِ وَقَالَ: " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَعَفِّرُوهُ الثَّامِنَةَ بِالتُّرَابِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: ”مجھے ان سے کیا سروکار؟“ پھر آپ ﷺ نے شکاری کتے اور بکریوں کے کتے کی رخصت دے دی اور فرمایا: ”جب کتا برتن میں منہ ڈال جائے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں مرتبہ مٹی سے مانجو۔“