السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ذكر الأخبار التي يتفرق بها الكلب عن غيره على طريق الاختصار باب: اختصار کے ساتھ ان احادیث کا ذکر جن کے ذریعے کتے کا حکم دیگر جانوروں سے مختلف ہوتا ہے
حدیث نمبر: 1183
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ انْتُقِصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " ⦗٣٨٠⦘ قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَذُكِرَ لِابْنِ عُمَرَ قَوْلَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ: رَحِمَ اللهُ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ صَاحِبَ زَرْعٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: قِيرَاطَانِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے سوائے جانوروں کی رکھوالی، شکار یا کھیتی کے علاوہ کتا رکھا تو ہر دن اس کے اجر سے ایک قیراط (ثواب) کم ہوگا۔“ (ب) زہری کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے وہ کھیتی باڑی کرتے تھے۔ (ج) سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی ہے اس میں ہے کہ دو قیراط (ثواب کم ہوگا)۔