السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: سؤر سائر الحيوانات سوى الكلب والخنزير باب: کتے اور خنزیر کے سوا دیگر تمام جانوروں کے جھوٹے کا بیان
حدیث نمبر: 1181
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ قَالَا: ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ بُجَيْدٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ فِي رَكْبٍ فِيهِمْ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ حَتَّى وَرُدُوا حَوْضًا فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِصَاحِبِ الْحَوْضِ: يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ هَلْ تَرِدُ حَوْضَكَ السِّبَاعُ؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: " يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ لَا تُخْبِرْنَا فَإِنَّا نَرِدُ عَلَى السِّبَاعِ وَتَرِدُ عَلَيْنَا ".حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن عبد الرحمن بن حاطب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک قافلے میں نکلے، اس میں سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب وہ حوض کے پاس آئے تو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے حوض والے سے کہا: اے حوض والے! کیا تیرے حوض پر درندے آتے ہیں؟ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے حوض والے! ہمیں اس کی خبر نہ دے؛ کیونکہ درندے ہمارے پاس اور ہم ان کے پاس آتے جاتے رہتے ہیں۔