السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: كتابة القطائع باب: جاگیروں (اقطاع) کی تحریر لکھ کر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11796
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّهِيدُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ لِيَكْتُبَ لَهُمْ إِلَى الْبَحْرَيْنِ، فَقَالُوا: لَا وَاللهِ حَتَّى تَكْتُبَ لِإِخْوَانِنَا مِنْ قُرَيْشٍ بِمِثْلِهَا، فَقَالَ لَهُمْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللهُ، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُونَ ذَلِكَ، قَالَ: " فَإِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً؛ فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ يَحْيَى فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: أَقْطَعَ الْأَنْصَارَ الْبَحْرَيْنَ، وَأَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ بِهَا كِتَابًا.حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کو بلایا تاکہ ان کو بحرین کی زمین کی سند جاری کر دیں، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! جب تک آپ ہمارے قریشی بھائیوں کے لیے بھی ایسا نہ کریں گے، ہم بھی نہ لیں گے۔ آپ ﷺ جب تک اللہ نے چاہا ان سے یہی کہتے رہے اور وہ ہر بار یہی جواب دیتے رہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک تم دیکھو گے کہ میرے بعد تمہارے اوپر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی، پس تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھے مل لو۔“