حدیث نمبر: 11794
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ عَوْفٍ الْأَعْرَابِيِّ قَالَ: قَرَأْتُ كِتَابَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي مُوسَى: " أَنَّ أَبَا عَبْدِ اللهِ سَأَلَنِي أَرْضًا عَلَى شَاطِئِ دِجْلَةَ تَخْتَلِي فِيهَا خَيْلُهُ، فَإِنْ كَانَتْ لَيْسَتْ مِنْ أَرْضِ الْجِزْيَةِ، وَلَا يَجْرِي إِلَيْهَا مَاءُ الْجِزْيَةِ فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ ".
حافظ ثناء اللہ

عوف اعرابی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط پڑھا جو انہوں نے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھا تھا کہ ابو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دجلہ کے کنارے والی زمین مانگی ہے، جہاں اس کے گھوڑے چرتے ہیں۔ ”اگر وہ جزیہ والی زمین نہیں اور نہ ہی اس سے جزیہ کا پانی جاری ہوتا ہے تو وہ زمین بطور جاگیر اس کو دے دو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب إحياء الموات / حدیث: 11794
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»