السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: إقطاع الموات باب: بنجر زمینیں جاگیر کے طور پر دینے (اقطاع) کا بیان۔
حدیث نمبر: 11791
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَبُو خَالِدٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا مُحْرِزُ بْنُ وِزْرٍ، عَنْ أَبِيهِ وِزْرٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ عِمْرَانَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ شُعَيْثٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ عَاصِمٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ حُصَيْنِ بْنِ مُشَمِّتٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَايَعَهُ بَيْعَةَ الْإِسْلَامِ وَصَدَّقَ إِلَيْهِ مَالَهُ، " وَأَقْطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيَاهًا عِدَّةً، فَسَمَّاهُنَّ، إِلَّا أَنَّ شَيْخَنَا لَمْ يَضْبِطْ أَسَامِيَ تِلْكَ الْمَوَاضِعِ " قَالَ: " وَشَرَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ مُشَمِّتٍ فِيمَا أَقْطَعَهُ إِيَّاهُ أَنْ لَا يُبَاعُ مَاؤُهُ، وَلَا يُعْقَدُ مَرْعَاهُ، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا حصین بن مشمت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ وفد کی صورت میں نبی ﷺ کے پاس آئے اور اسلام قبول کرنے کی بیعت کی اور اپنا مال صدقہ کیا۔ آپ ﷺ نے اسے پانی کے کنویں بطور جاگیر دیے۔ ان کا نام لیا، لیکن ہمارے شیخ ان ناموں کو یاد نہ رکھ سکے۔ راوی کہتے ہیں: نبی ﷺ نے اس پر شرط لگائی جو ابن مشمت کو دیا کہ ”وہ اس کا پانی مباح نہ کرے گا اور اس کی چراگاہ کو نہ کاٹے گا اور نہ اس کے درختوں کو کاٹے گا۔“