السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: من أحيا أرضا ميتة ليست لأحد، ولا في حق أحد، فهي له باب: ”جس شخص نے کسی ایسی بنجر زمین کو آباد کیا جو نہ کسی کی ملکیت ہو اور نہ کسی کے حق میں آتی ہو تو وہ اسی کی ہے“۔
حدیث نمبر: 11778
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَاطَ عَلَى شَيْءٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی چیز کا احاطہ کیا وہ اسی کی ہے اور ظالم رگ والے کے لیے کوئی حق نہیں ہے۔“