السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: من أحيا أرضا ميتة ليست لأحد، ولا في حق أحد، فهي له باب: ”جس شخص نے کسی ایسی بنجر زمین کو آباد کیا جو نہ کسی کی ملکیت ہو اور نہ کسی کے حق میں آتی ہو تو وہ اسی کی ہے“۔
حدیث نمبر: 11773
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى أَنَّ الْأَرْضَ أَرْضُ اللهِ، وَالْعِبَادَ عِبَادُ اللهِ، وَمَنْ أَحْيَا مَوَاتًا فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ. جَاءَنَا بِهَذَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ جَاءُونَا بِالصَّلَوَاتِ عَنْهُ ".حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ ”زمین اللہ کی زمین ہے اور بندے بھی اللہ کے بندے ہیں اور جس نے بنجر زمین آباد کی وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔“ ہم کو یہ بات ان لوگوں سے پہنچی ہے جن سے نماز پہنچی ہے۔