حدیث نمبر: 11757
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أُسَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَكْنِسُ حَتَّى تَزَوَّجْتُ وَعَتَقْتُ وَحَجَجْتُ، قَالَ: " مَا كُنْتَ تَكْنِسُ؟ " قَالَ: الْعَذِرَةَ، قَالَ: " أَنْتَ خَبِيثٌ، وَعِتْقُكَ خَبِيثٌ، وَحَجُّكُ خَبِيثٌ، اخْرُجْ مِنْهُ كَمَا دَخَلْتَ فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ

اسید بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا: میں جھاڑو دیتا تھا یہاں تک کہ میں نے شادی کی اور میں نے آزاد کر دیا اور میں نے حج کیا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: تو کیا جھاڑو دیتا تھا؟ اس نے کہا: گندگی کو۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تو خبیث اور تیرا آزاد کرنا بھی خبیث اور تیرا حج بھی ناپاک، اس سے نکل جا جس طرح تو اس میں داخل ہوا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المزارعة / حدیث: 11757
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»