السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: ما جاء في النهي عن كراء الأرض باب: زمین کو کرائے پر دینے کی ممانعت کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُكْرِي مَزَارِعَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ رَافِعًا يَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " قَالَ نَافِعٌ: فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى رَافِعٍ، وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: مَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكَ تَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِرَاءِ الْمَزَارِعِ؟ قَالَ: نَعَمْ، " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ " وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ: زَعَمَ رَافِعٌ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، قَالَ نَافِعٌ: فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لَمَّا ذَكَرَ رَافِعٌ مَا ذَكَرَ: قَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّا نُكْرِي مَزَارِعَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى الْأَرْبِعَاءِ وَشَيْءٍ مِنَ التِّبْنِ لَا أَحْفَظُهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمر، عثمان اور معاویہ رضی اللہ عنہم کی امارت کے شروع میں اپنی زمین کرایہ پر دیتے تھے۔ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ رافع کا خیال ہے کہ نبی ﷺ نے کرایہ پر زمین دینے سے منع فرمایا ہے۔ نافع کہتے ہیں: میں اور ابن عمر رضی اللہ عنہما رافع کی طرف گئے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ کی طرف سے ایک بات پہنچی ہے کہ آپ نبی ﷺ سے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں بیان کرتے ہو؟ تو رافع نے کہا: ”ہاں! رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے“۔ اس کے بعد ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں جب سوال کیا جاتا تو وہ کہتے: ”رافع کا خیال ہے کہ نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے“۔ نافع کہتے ہیں: رافع کے بعد ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”مجھے یاد ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اپنے کھیتوں کو نالیوں اور تھوڑی گھاس کے بدلے میں دیا کرتے تھے“۔