السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: ما جاء في النهي عن كراء الأرض باب: زمین کو کرائے پر دینے کی ممانعت کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11707
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ هُوَ ابْنُ عَطَاءٍ، أنبأ ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَأْخُذُ كِرَاءَ الْأَرْضِ حَتَّى بَلَغَهُ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَدِيثٌ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا رَافِعًا، فَحَدَّثَ عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ، يَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " فَتَرَكَهُ ابْنُ عُمَرَ بَعْدَ ذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کرایہ پر زمین لیتے تھے، یہاں تک کہ ان کو رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث ملی۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا، پھر ہم رافع رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو رافع رضی اللہ عنہ نے اپنے بعض چچوں سے بیان کیا کہ وہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے تھے کہ آپ ﷺ نے ”کرایہ پر زمین دینے سے منع فرمایا“ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے چھوڑ دیا۔