السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: ما جاء في النهي عن كراء الأرض باب: زمین کو کرائے پر دینے کی ممانعت کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ، ثنا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ أَخْبَرَهُ وَسَأَلَهُ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ، فَقَالَ: أَخْبَرَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ عَمَّيْهِ، وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ " قَالَ: فَتَرَكَ عَبْدُ اللهِ كِرَاءَهَا، وَقَدْ كَانَ يُكْرِيهَا قَبْلَ ذَلِكَ قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَقُلْتُ لِسَالِمٍ: فَتُكْرِيهَا أَنْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَدْ كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يُكْرِيهَا، قُلْتُ: فَأَيْنَ حَدِيثُ رَافِعٍ؟ فَقَالَ سَالِمٌ: إِنَّ رَافِعًا أَكْثَرَ عَلَى نَفْسِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ.امام زہری رحمہ اللہ نے سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو سالم رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اپنے دو چچوں کی طرف سے جو بدری تھے، یہ خبر دی تھی کہ ”رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے“، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کرایہ پر دینا چھوڑ دیا اور وہ پہلے (اسے) یاد کرتے تھے۔ زہری رحمہ اللہ نے سالم رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا آپ کرایہ پر دیتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما بھی دیتے تھے، میں نے کہا: سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث کا کیا حکم ہے؟ تو سالم رحمہ اللہ نے کہا: رافع رضی اللہ عنہ نے اپنے اوپر زیادتی کی ہے۔