السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإجارة— اجارہ کا بیان
باب: لا تجوز الإجارة حتى تكون معلومة، وتكون الأجرة معلومة باب: اجارہ اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ کام معلوم نہ ہو اور اجرت متعین نہ ہو۔
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْعَدْلُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " نَشَأْتُ يَتِيمًا، وَهَاجَرْتُ مِسْكِينًا، وَكُنْتُ أَجِيرًا لِابْنِ عَفَّانَ وَابْنَةِ غَزْوَانَ عَلَى طَعَامِ بَطْنِي وَعُقْبَةِ رِجْلِي، أَحْتَطِبُ لَهُمْ إِذَا نَزَلُوا، وَأَحْدُو بِهِمْ إِذَا سَارُوا، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الدِّينَ قِوَامًا، وَأَبَا هُرَيْرَةَ إِمَامًا " ⦗٢٠٠⦘ فَلَيْسَ فِي هَذَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمَ بِهِ فَأَقَرَّهُمْ عَلَى ذَلِكَ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ هَذَا مُوَاضَعَةً بَيْنَهُمْ عَلَى سَبِيلِ التَّرَاضِي لَا عَلَى سَبِيلِ التَّعَاقُدِ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے یتیمی کی حالت میں پرورش پائی اور میں نے مسکینی کی حالت میں ہجرت کی، اور میں ابو عفان کے ہاں مزدور تھا اور اس کے بیٹے غزوان کے ہاں بھی اپنے پیٹ کے بقدر کھانے پر اور اپنے گھر والوں کے کھانے کے بقدر۔ جب وہ گھر پر ہوتے تو میں لکڑیاں اکٹھی کرتا اور جب وہ سفر پر ہوتے تو میں ان کا سامان تیار کرتا۔
اب تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے دین کو مضبوطی بخشی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو امام بنایا۔
اس میں یہ نہیں ہے کہ نبی ﷺ نے جان لینے کے بعد بھی برقرار رہنے دیا اور احتمال ہے کہ یہاں دونوں کے درمیان رضامندی تھی نہ کہ عقد تھا۔