حدیث نمبر: 11640
أَخْبَرَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ سَنَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ وِثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ثنا نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَمَا ثَلَاثَةُ رَهْطٍ يَتَمَشَّوْنَ أَخَذَهُمُ الْمَطَرُ فَأَوَوْا إِلَى غَارٍ فِي جَبَلٍ، فَبَيْنَمَا هُمْ فِيهِ حُطَّتْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْظُرُوا أَفْضَلَ أَعْمَالٍ عَمِلْتُمُوهَا لِلَّهِ تَعَالَى فَسَلُوهُ بِهَا؛ لَعَلَّهُ يُفَرِّجُ بِهَا عَنْكُمْ، فَقَالَ أَحَدُهُمُ: اللهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ كَبِيرَانِ، وَكَانَتْ لِيَ امْرَأَةٌ وَوَلَدٌ صِغَارٌ، وَكُنْتُ أَرْعَى عَلَيْهِمْ، فَإِذَا رُحْتُ عَلَيْهِمْ بَدَأْتُ بِأَبَوِيَّ فَسَقَيْتُهُمَا، فَنَأَى بِي يَوْمًا الشَّجَرُ فَلَمْ آتِ حَتَّى نَامَ أَبَوَايَ، فَطَيَّبْتُ الْإِنَاءَ ثُمَّ حَلَبْتُ فِيهِ ثُمَّ قُمْتُ بِحِلَابِي عِنْدَ رَأْسِ أَبَويَ، وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدِ رِجْلِيَّ، أَكْرَهُ أَنْ أَبْدَأَ بِهِمْ قَبْلَ أَبَوِيَّ، وَأَكْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا مِنْ نَوْمَتِهِمَا، فَلَمْ أَزَلْ كَذَلِكَ قَائِمًا حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ، اللهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا فُرْجَةً نَرَى مِنْهَا السَّمَاءَ، فَفَرَجَ لَهُمْ فُرْجَةً رَأَوْا مِنْهَا السَّمَاءَ. وَقَالَ الْآخَرُ: اللهُمَّ إِنَّهَا كَانَتْ لِيَ ابْنَةُ عَمٍّ فَأَحْبَبْتُهَا حَتَّى كَانَتْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلِيَّ، فَسَأَلْتُهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لَا، حَتَّى تَأْتِيَنِي بِمِائَةِ دِينَارٍ، فَسَعَيْتُ حَتَّى جَمَعْتُ مِائَةَ دِينَارٍ، فَأَتَيْتُهَا بِهَا، فَلَمَّا كُنْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا قَالَتِ: اتَّقِ اللهَ، لَا تَفْتَحِ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ، فَقُمْتُ عَنْهَا، اللهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنْي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا مِنْهَا فُرْجَةً، فَفَرَجَ لَهُمْ مِنْهَا فُرْجَةً. وَقَالَ الثَّالِثُ: اللهُمَّ إِنِّي كُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرَقِ ذُرَةٍ، فَلَمَّا قَضَى عَمَلَهُ عَرَضْتُهُ عَلَيْهِ، فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهُ فَرَغِبَ عَنْهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَعْتَمِلُ بِهِ حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرِعَاءَهَا، فَجَاءَنِي فَقَالَ: اتَّقِ ⦗١٩٥⦘ اللهَ وَأَعْطِنِي حَقِّي وَلَا تَظْلِمْنِي، فَقُلْتُ لَهُ: اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْبَقَرِ وَرِعَائِهَا فَخُذْهَا، فَقَالَ: اتَّقِ اللهَ وَلَا تَهْزَأْ بِي، فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أَهْزَأُ بِكَ، اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْبَقَرِ وَرِعَائِهَا فَخُذْهَا، فَذَهَبَ فَاسْتَاقَهَا، اللهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا مَا بَقِيَ مِنْهَا، فَفَرَجَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُمْ، فَخَرَجُوا يَتَمَاشَوْنَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ نَافِعٍ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین آدمی چل رہے تھے، ان کو بارش نے روک دیا۔ انھوں نے ایک پہاڑ کی غار میں پناہ لی۔ اسی دوران ایک پتھر پہاڑ سے گرا اور غار کے منہ پر آگیا۔ وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: اپنے اپنے بہترین اعمال یاد کرو اور ان کے ساتھ اللہ کو پکارو تاکہ وہ اس کی وجہ سے تمہارے اوپر سے پتھر ہٹا دے۔ ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ! میرے والدین بوڑھے تھے اور میری بیوی اور بچے بھی تھے۔ میں ان کی پرورش کے لیے بکریاں چراتا تھا۔ جب میں شام کو واپس آتا تو سب سے پہلے میں اپنے والدین کو دودھ پلاتا۔ ایک دن درخت کی تلاش میں دور نکل گیا، جب واپس آیا تو وہ دونوں سو چکے تھے۔ میں نے برتن پکڑا اور دودھ دوہا۔ پھر میں دودھ لے کر اپنے والدین کے سر کے پاس کھڑا ہو گیا اور میرے بچے میرے پاؤں کے پاس بلک رہے تھے۔ میں نے ناپسند کیا کہ ان کو نیند سے بیدار کروں۔ میں کھڑا رہا یہاں تک کہ فجر پھوٹ پڑی۔ اے اللہ! بے شک تو جانتا ہے میں نے یہ صرف تیری رضا کے لیے کیا، تو ہم سے اس پتھر کو ہٹا دے تاکہ ہم آسمان دیکھ لیں۔ وہ پتھر ہٹا اور انھوں نے آسمان دیکھ لیا۔ دوسرے نے کہا: اے اللہ! میری ایک چچا زاد تھی، میں اسے پسند کرتا تھا، وہ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب تھی۔ میں نے اس سے گناہ کرنے کا مطالبہ کیا، اس نے کہا: پہلے تو مجھے سو دینار دے۔ میں نے کوشش کی، سو دینار جمع کیے، پھر اس کے پاس آیا۔ جب میں اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھا تو اس نے کہا: اللہ سے ڈر اور مہر کو نہ توڑ مگر جائز طریقے سے (نکاح سے)۔ میں کھڑا ہو گیا۔ اے اللہ! تو جانتا ہے میں نے یہ کام تیری رضا کے لیے کیا، تو ہم سے اس پتھر کو ہٹا دے۔ وہ تھوڑا سا اور ہٹ گیا۔ تیسرے نے کہا: اے اللہ! میں نے ایک مزدور لگایا تھا جب اس نے اپنا کام کیا تو میں نے اسے مزدوری دی۔ اس نے لینے سے انکار کر دیا اور اس نے بے رغبتی کی۔ میں ہمیشہ اس کی اس مزدوری سے کام کرتا رہا یہاں تک کہ میں نے اس سے بہت زیادہ گائیں اور بکریاں جمع کر لیں۔ وہ آدمی آیا اور اس نے کہا: اللہ سے ڈر اور مجھے میرا حق دے اور میرے اوپر ظلم نہ کر۔ میں نے کہا: جا اور یہ گائیں اور بکریاں لے جا۔ اس نے کہا: اللہ سے ڈر اور مذاق نہ کر۔ میں نے کہا: میں مذاق نہیں کر رہا، جا اور یہ گائیں اور بکریاں لے جا۔ وہ لے گیا۔ اے اللہ! تو جانتا ہے میں نے یہ تیری رضا کے لیے کیا تھا، تو باقی ماندہ پتھر بھی ہٹا دے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ پتھر بھی ہٹا دیا پھر وہ نکلے اور چلنے لگے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المساقاة / حدیث: 11640
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 2272، مسلم 2743
تخریج حدیث «بخاري 2272، مسلم 2743»