السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المساقاة— مساقات کا بیان
باب: المعاملة على النخل بشطر ما يخرج منها أو ما تشارطا عليه من جزء معلوم باب: کھجور کے درختوں پر ان سے نکلنے والی نصف پیداوار یا کسی اور مقررہ حصے پر باہمی شرط کے ساتھ معاملہ (مساقات) کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَجْلَى الْيَهُودَ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا، وَكَانَتِ الْأَرْضُ حِينَ ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُسْلِمِينَ، فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا، فَسَأَلَتِ الْيَهُودُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ بِهَا عَلَى أَنْ يَكْفُوا عَمَلَهَا وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا "، فَقَرُّوا بِهَا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي إِمَارَتِهِ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَاءَ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کو حجاز سے جلا وطن کیا اور رسول اللہ ﷺ نے بھی خیبر کی فتح کے وقت یہودیوں کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا اور اس وقت خیبر کی زمین پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور تمام مسلمانوں کا قبضہ تھا۔ جب یہودیوں کو نکالنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے درخواست کی کہ انھیں یہاں ہی رہنے دیا جائے اور وہ زمین میں محنت کریں گے، جس کے صلے میں ان کو نصف پھل ملے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہم تم کو برقرار رکھتے ہیں اس شرط پر کہ جب تک ہماری مرضی ہو۔“ پس وہ وہیں رہے یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ میں انھیں تیماء اور اریحاء کی طرف جلا وطن کر دیا۔