❮
❯
حدیث نمبر: 11620
وَهُوَ فِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ رِيَاحِ بْنِ عُبَيْدَةَ قَالَ: بَعَثَ رَجُلٌ مَعَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ إِلَى رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ، فَابْتَاعَ بِهَا الْمَبْعُوثُ مَعَهُ بَعِيرًا، ثُمَّ بَاعَهُ بِأَحَدَ عَشَرَ دِينَارًا، فَسَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: " الْأَحَدَ عَشَرَ لِصَاحِبِ الْمَالِ، وَلَوْ حَدَثَ بِالْبَعِيرِ حَدَثٌ كُنْتَ لَهُ ضَامِنًا " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَابْنُ عُمَرَ يَرَى عَلَى الْمُشْتَرِي بِالْبِضَاعَةِ لِغَيْرِهِ الضَّمَانَ، وَيَرَى الرِّبْحَ لِصَاحِبِ الْبِضَاعَةِ، وَلَا يَجْعَلُ الرِّبْحَ لِمَنْ ضَمِنَ قَالَ الرَّبِيعُ: آخِرُ قَوْلِ الشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ إِذَا تَعَدَّى فَاشْتَرَى شَيْئًا بِالْمَالِ بِعَيْنِهِ فَرَبِحَ فِيهِ فَالشِّرَاءُ بَاطِلٌ، وَإِنِ اشْتَرَى بِمَالٍ لَا بِعَيْنِهِ ثُمَّ نَقَدَ الْمَالَ فَالشِّرَاءُ لَهُ وَالرِّبْحُ لَهُ وَالنُّقْصَانُ عَلَيْهِ، وَهُوَ ضَامِنٌ لِلْمَالِ، وَكَذَلِكَ نَقَلَهُ الْمُزَنِيُّ ثُمَّ قَالَ: وَاحْتَجَّ بِأَنَّ حَدِيثَ الْبَارِقِيِّ لَيْسَ بِثَابِتٍ عِنْدَهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَذَلِكَ لِمَا فِي إِسْنَادِهِ مِنَ الْإِرْسَالِ، وَهُوَ أَنَّ شَبِيبَ بْنَ غَرْقَدَةَ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، إِنَّمَا سَمِعَهُ مِنَ الْحِيِّ يُخْبِرُونَهُ عَنْهُ، وَحَدِيثُ حَكِيمِ بْنِ حَرَامٍ أَيْضًا عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَنْهُ، وَأَوَّلَ الْمُزَنِيُّ حَدِيثَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَعَ ابْنَيْهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِأَنَّهُ سَأَلَهُمَا لِبِرِّهِ الْوَاجِبِ عَلَيْهِمَا أَنْ يَجْعَلَا رِبْحَهُ كُلَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ، فَلَمْ يُجِيبَاهُ، فَلَمَّا طَلَبَ النِّصْفَ أَجَابَاهُ عَنْ طِيبِ أَنْفُسِهِمَا.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا رباح بن عبیدہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے بصرہ والوں میں سے کسی آدمی کو دس دینار دے کر مدینہ میں ایک آدمی کی طرف بھیجا، اس نے اس سے اونٹ خریدا، پھر اس کو گیارہ دینار کے بدلے بیچ دیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس نے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ گیارہ دینار مال والے کے ہیں اور اگر اونٹ کو کچھ ہوجاتا تو وہ اس کا ضامن تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما دوسرے کے سامان سے خریدنے والے کو ضامن خیال کرتے تھے اور نفع اصل مالک کے لیے سمجھتے تھے اور ضامن کے لیے نفع جائز نہ سمجھتے تھے۔ ربیع کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا آخری قول یہ ہے کہ جب وہ حد سے بڑھے اور بعینہٖ اسی مال سے کوئی چیز خرید لے اور اس میں نفع حاصل کرے تو وہ خرید باطل ہے، اور اگر غیر معین مال کے بدلے خریدے پھر وہی مال ادا کر دے تو خرید اسی کی ہے، نفع اسی کا ہے اور نقصان اسی پر ہے اور وہ مال کا ضامن ہے۔ مزنی نے بھی اسی طرح نقل کیا ہے، پھر کہا: امام شافعی رحمہ اللہ نے یہ دلیل دی کہ بارقی کی حدیث ان کے نزدیک ثابت نہیں ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: یہ اس کی سند میں ارسال کی وجہ سے ہے، کیونکہ شبیب بن غرقدہ نے اسے عروہ بارقی سے نہیں سنا، بلکہ قبیلے کے لوگوں سے سنا جو ان سے بیان کرتے تھے، اور حکیم بن حزام کی حدیث بھی اہل مدینہ کے ایک شیخ کے واسطے سے ان سے ہے۔ اور مزنی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اپنے دونوں بیٹوں والی حدیث کی یہ تاویل کی ہے کہ انہوں نے ان دونوں پر واجب حسنِ سلوک کی بنا پر ان سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ سارا نفع مسلمانوں کے لیے کر دیں، پس انہوں نے قبول نہ کیا، جب نصف طلب کیا تو انہوں نے خوشی سے قبول کرلیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القراض / حدیث: 11620
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف الام 4/35
تخریج حدیث «ضعيف الام 4/35»