السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القراض— قرضوں اور مضاربت کا بیان
باب: المضارب يخالف بما فيه زيادة لصاحبه، ومن تجر في مال غيره بغير أمره باب: مضارب کا ایسی مخالفت کرنا جس میں مالک کا فائدہ ہو، اور اس شخص کا بیان جو کسی دوسرے کے مال سے اس کے حکم کے بغیر تجارت کرے۔
وَهُوَ فِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ رِيَاحِ بْنِ عُبَيْدَةَ قَالَ: بَعَثَ رَجُلٌ مَعَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ إِلَى رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ، فَابْتَاعَ بِهَا الْمَبْعُوثُ مَعَهُ بَعِيرًا، ثُمَّ بَاعَهُ بِأَحَدَ عَشَرَ دِينَارًا، فَسَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: " الْأَحَدَ عَشَرَ لِصَاحِبِ الْمَالِ، وَلَوْ حَدَثَ بِالْبَعِيرِ حَدَثٌ كُنْتَ لَهُ ضَامِنًا " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَابْنُ عُمَرَ يَرَى عَلَى الْمُشْتَرِي بِالْبِضَاعَةِ لِغَيْرِهِ الضَّمَانَ، وَيَرَى الرِّبْحَ لِصَاحِبِ الْبِضَاعَةِ، وَلَا يَجْعَلُ الرِّبْحَ لِمَنْ ضَمِنَ قَالَ الرَّبِيعُ: آخِرُ قَوْلِ الشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ إِذَا تَعَدَّى فَاشْتَرَى شَيْئًا بِالْمَالِ بِعَيْنِهِ فَرَبِحَ فِيهِ فَالشِّرَاءُ بَاطِلٌ، وَإِنِ اشْتَرَى بِمَالٍ لَا بِعَيْنِهِ ثُمَّ نَقَدَ الْمَالَ فَالشِّرَاءُ لَهُ وَالرِّبْحُ لَهُ وَالنُّقْصَانُ عَلَيْهِ، وَهُوَ ضَامِنٌ لِلْمَالِ، وَكَذَلِكَ نَقَلَهُ الْمُزَنِيُّ ثُمَّ قَالَ: وَاحْتَجَّ بِأَنَّ حَدِيثَ الْبَارِقِيِّ لَيْسَ بِثَابِتٍ عِنْدَهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَذَلِكَ لِمَا فِي إِسْنَادِهِ مِنَ الْإِرْسَالِ، وَهُوَ أَنَّ شَبِيبَ بْنَ غَرْقَدَةَ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، إِنَّمَا سَمِعَهُ مِنَ الْحِيِّ يُخْبِرُونَهُ عَنْهُ، وَحَدِيثُ حَكِيمِ بْنِ حَرَامٍ أَيْضًا عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَنْهُ، وَأَوَّلَ الْمُزَنِيُّ حَدِيثَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَعَ ابْنَيْهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِأَنَّهُ سَأَلَهُمَا لِبِرِّهِ الْوَاجِبِ عَلَيْهِمَا أَنْ يَجْعَلَا رِبْحَهُ كُلَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ، فَلَمْ يُجِيبَاهُ، فَلَمَّا طَلَبَ النِّصْفَ أَجَابَاهُ عَنْ طِيبِ أَنْفُسِهِمَا.سیدنا رباح بن عبیدہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے بصرہ والوں میں سے کسی آدمی کو دس دینار دے کر مدینہ میں ایک آدمی کی طرف بھیجا، اس نے اس سے اونٹ خریدا، پھر اس کو گیارہ دینار کے بدلے بیچ دیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس نے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ گیارہ دینار مال والے کے ہیں اور اگر اونٹ کو کچھ ہوجاتا تو وہ اس کا ضامن تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سامان خریدنے والے کو ضامن خیال کرتے تھے اور نفع اصل مالک کے لیے سمجھتے تھے اور نفع سامان خریدنے والے کے لیے جائز نہ سمجھتے تھے۔ ربیع کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا آخری قول یہ ہے کہ جب وہ حد سے بڑھے اور مال کے ساتھ کوئی چیز خرید لے، نقد اس سے نفع بھی حاصل کرلے تو وہ خرید باطل ہے اور اگر کوئی ایسی چیز خرید لے جو عین (نقد) نہ ہو، پھر مال گم ہوجائے تو خریدنا، نفع اور نقصان سب کا ذمہ دار وہی ہے اور وہی مال کا ضامن ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنے بیٹوں سے سوال کرنا اس لیے تھا کہ وہ نفع کو سب مسلمانوں کے لیے عام رکھیں، پس انہوں نے قبول نہ کیا، جب نصف طلب کیا تو انہوں نے خوشی سے قبول کرلیا۔