السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القراض— قرضوں اور مضاربت کا بیان
باب: المضارب يخالف بما فيه زيادة لصاحبه، ومن تجر في مال غيره بغير أمره باب: مضارب کا ایسی مخالفت کرنا جس میں مالک کا فائدہ ہو، اور اس شخص کا بیان جو کسی دوسرے کے مال سے اس کے حکم کے بغیر تجارت کرے۔
حدیث نمبر: 11618
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو حَصِينٍ، عَنْ شَيْخٍ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ مَعَهُ بِدِينَارٍ يَشْتَرِي لَهُ أُضْحِيَّةً، فَاشْتَرَاهَا بِدِينَارٍ وَبَاعَهَا بِدِينَارَيْنِ، فَرَجَعَ فَاشْتَرَى أُضْحِيَّةً بِدِينَارٍ وَجَاءَ بِدِينَارٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَصَدَّقَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعَا لَهُ أَنْ يُبَارَكَ لَهُ فِي تِجَارَتِهِ " وَحَدِيثُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَعَ ابْنَيْهِ قَدْ مَضَى فِي الْبَابِ الْأَوَّلِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے ایک دینار دے کر بھیجا تاکہ وہ ایک بکری خرید کر لائے، اس نے ایک دینار کی بکری خریدی اور دو دینار میں بیچ دی، پھر واپس پلٹا اور ایک دینار کی بکری خریدی اور ایک دینار نبی ﷺ کو دے دیا، آپ ﷺ نے ایک دینار صدقہ کر دیا اور اس کے لیے تجارت میں برکت کی دعا کی۔