السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الغصب— غصب کا بیان
باب: ليس لعرق ظالم حق باب: ”ظالم کی رگ (ناحق بوئے گئے پودے یا تعمیر) کا کوئی حق نہیں ہے“۔
حدیث نمبر: 11539
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ، وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ "، قَالَ: فَاخْتَصَمَ رَجُلَانِ مِنْ بَيَاضَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَرَسَ أَحَدُهُمَا نَخْلًا فِي أَرْضِ الْآخَرِ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبِ الْأَرْضِ بِأَرْضِهِ، وَأَمَرَ صَاحِبَ النَّخْلِ أَنْ يُخْرِجَ نَخْلَهُ مِنْهَا. قَالَ: قَالَ عُرْوَةُ: فَلَقَدْ أَخْبَرَنِي الَّذِي حَدَّثَنِي قَالَ: رَأَيْتُهَا وَإِنَّهُ لِيُضْرَبُ فِي أُصُولِهَا بِالْفُئُوسِ، وَإِنَّهُ لَنَخْلٌ عُمٌّ حَتَّى أَخْرَجَتْ.حافظ ثناء اللہ
عروہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بنجر زمین آباد کی وہ اسی کی ہے اور ظالم کا کسی رگ پر حق نہیں ہے۔“ فرماتے ہیں: بیاضہ قبیلے کے دو آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس جھگڑا لے کر آئے، ان میں سے ایک نے دوسرے کی زمین میں کھجوروں کا باغ لگایا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے زمین والے کے لیے زمین کا فیصلہ کیا اور کھجور والے کو حکم دیا کہ اپنی کھجوریں نکال لے۔ عروہ فرماتے ہیں: جس نے مجھے حدیث بیان کی اس نے فرمایا: اس کی جڑیں کلہاڑیوں سے کاٹی گئی تھیں اور وہ مضبوط کھجوریں تھیں جب نکالی گئیں۔