السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الغصب— غصب کا بیان
باب: رد قيمته إن كان من ذوات القيم، أو رد مثله إن كان من ذوات الأمثال، إذا أتلفه الغاصب أو تلف في يديه باب: اگر غصب کی گئی چیز قیمتی اشیاء میں سے ہو تو اس کی قیمت لوٹانا، یا اگر وہ مثلی اشیاء (جن کی مثل مل جاتی ہو) میں سے ہو تو اس کی مثل لوٹانا، جب غاصب اسے ضائع کر دے یا وہ اس کے ہاتھ میں تلف ہو جائے۔
حدیث نمبر: 11521
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا حُمَيْدٌ، ح قَالَ وَثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ مَعَ خَادِمٍ بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ، فَضَرَبَتْ بِيَدِه فَكَسَرَتِ الْقَصْعَةَ، فَضَمَّهَا وَجَعَلَ فِيهَا الطَّعَامَ وَقَالَ: " كُلُوا "، وَحَبَسَ الرَّسُولَ وَالْقَصْعَةَ حَتَّى فَرَغُوا، فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَى الرَّسُولِ وَحَبَسَ الْمَكْسُورَةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.حافظ ثناء اللہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں میں سے ایک بیوی کے پاس تھے۔ ایک بیوی نے خادم کے ہاتھ ایک کھانے کا پیالہ بھیجا۔ اس بیوی نے (جس کے پاس آپ ﷺ تھے) ہاتھ مارا تو پیالہ ٹوٹ گیا۔ آپ ﷺ نے اسے جوڑا اور اس میں کھانا ڈالا اور فرمایا: ”کھاؤ“ اور خادم کو روک لیا اور پیالہ بھی۔ جب کھانے سے فارغ ہوئے تو خادم کو صحیح پیالہ دے کر بھیجا اور ٹوٹا ہوا رکھ لیا۔