السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الغصب— غصب کا بیان
باب: رد قيمته إن كان من ذوات القيم، أو رد مثله إن كان من ذوات الأمثال، إذا أتلفه الغاصب أو تلف في يديه باب: اگر غصب کی گئی چیز قیمتی اشیاء میں سے ہو تو اس کی قیمت لوٹانا، یا اگر وہ مثلی اشیاء (جن کی مثل مل جاتی ہو) میں سے ہو تو اس کی مثل لوٹانا، جب غاصب اسے ضائع کر دے یا وہ اس کے ہاتھ میں تلف ہو جائے۔
حدیث نمبر: 11520
اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُهُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ، فَكَانَ لَهُ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ، قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةُ الْعَدْلِ فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ " اتَّفَقَا عَلَى إِخْرَاجِهِ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے مشترک غلام سے اپنا حصہ آزاد کر دیا، اگر اس (آزاد کرنے والے) کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی قیمت کو پہنچ جائے تو اس پر غلام کی عدل کے ساتھ قیمت لگائی جائے گی اور وہ دوسرے شرکاء کو ان کا حصہ دے دے گا اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا۔ اگر نہیں تو جتنا وہ آزاد ہوا اتنا آزاد ہے۔“