السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العارية— مانگے کى چیز کا بیان
باب: تحريم الغصب وأخذ أموال الناس بغير حق باب: غصب کرنے اور لوگوں کے مال ناحق لینے کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 11506
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ قَالَ الزُّبَيْرُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُكَرَّرُ عَلَيْنَا مَا يَكُونُ بَيْنَنَا مَعَ خَوَاصِّ ⦗١٥٦⦘ الذُّنُوبِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، لَتُكَرَّرَنَّ عَلَيْكُمْ حَتَّى يُرَدَّ إِلَى كُلِّ ذِي حَقٍّ حَقُّهُ "، قَالَ الزُّبَيْرُ: وَاللهِ، إِنَّ الْأَمْرَ لَشَدِيدٌ.حافظ ثناء اللہ
حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب یہ آیت ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ﴾ [سورة الزمر: 30] ”بے شک آپ فوت ہونے والے ہیں اور بے شک وہ بھی فوت ہوں گے“ نازل ہوئی تو زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم پر ہمارے گناہوں کو لوٹایا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں ضرور تم پر لوٹایا جائے گا یہاں تک کہ ہر حق والے کو اس کا حق بھی لوٹایا جائے گا۔“