السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: نجاسة ما ماسه الكلب بسائر بدنه إذا كان أحدهما رطبا باب: کتے کے اپنے باقی جسم سے چھو جانے والی اس چیز کی نجاست کا بیان جب ان دونوں (کتے کا جسم یا وہ چیز) میں سے کوئی ایک گیلا ہو
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ النَّسَوِيُّ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدِ اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي أَمَا وَاللهِ مَا أَخْلَفَنِي " قَالَ: فَظَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَهُ ذَلِكَ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جَرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَنَا فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ مَكَانَهُ فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ لَهُ: " قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي ⦗٣٦٩⦘ الْبَارِحَةَ " قَالَ: " أَجَلْ وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنَّهُ يَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ وَبِتَرْكِ كَلْبِ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى هَكَذَا..سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھ کو سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن غمگین حالت میں صبح کی۔ سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے آج آپ کو اجنبی حالت میں پایا ہے؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جبرائیل نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آج رات مجھ سے ملیں گے، اللہ کی قسم! وہ وعدہ خلافی نہیں کرتے۔“ اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ غمگین تھے، پھر آپ ﷺ کے دل میں کتے کے بچے کا خیال آیا جو ہمارے خیمہ کے نیچے تھا۔ آپ ﷺ نے حکم دیا تو اس کو نکالا گیا، پھر اپنے ہاتھ میں پانی لیا اور اس جگہ پر چھینٹے مارے۔ صبح کو جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ سے ملے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ کل آپ مجھے ملیں گے!“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں! لیکن ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔“ اس دن رسول اللہ ﷺ نے صبح ہی کتوں کو مارنے کا حکم دے دیا، حتیٰ کہ آپ ﷺ نے چھوٹے باغ کے کتے کو بھی مارنے کا حکم دیا اور بڑے باغ کے کتے کو چھوڑ دیا۔