السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العارية— مانگے کى چیز کا بیان
باب: تحريم الغصب وأخذ أموال الناس بغير حق باب: غصب کرنے اور لوگوں کے مال ناحق لینے کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 11499
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَأْخُذْ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ أَخِيهِ لَاعِبًا أَوْ جَادًّا، وَإِذَا أَخَذَ أَحَدُكُمْ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن سائب بن یزید اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے سنا کہ ”تم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کا سامان نہ ہنسی مذاق میں لے اور نہ سنجیدگی سے، اور جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی چھڑی لے تو اسے واپس کر دے۔“