السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العارية— مانگے کى چیز کا بیان
باب: تحريم الغصب وأخذ أموال الناس بغير حق باب: غصب کرنے اور لوگوں کے مال ناحق لینے کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 11497
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحْلُبَنَّ أَحَدُكُمْ مَاشِيَةَ غَيْرِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ فَتُكْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ، فَإِنَّمَا يَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَتَهُمْ، فَلَا يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی کسی کے جانور کا بغیر اجازت دودھ نہ دوہے، کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اس کے پینے کا برتن لایا جائے اور اسے توڑ دیا جائے، پھر اس کا پانی اور کھانا بہہ جائے؟ اسی طرح ان کے مویشیوں کے تھن بھی ان کے لیے ان کی غذا کا خزانہ ہوتے ہیں، ان میں ان کی غذا ہوتی ہے، لہٰذا کوئی شخص بھی دوسرے کی اجازت کے بغیر اس جانور کا دودھ نہ نکالے۔“