السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العارية— مانگے کى چیز کا بیان
باب: العارية مضمونة باب: ”عاریت (پر لی گئی چیز) کی ضمانت لازم ہے“۔
حدیث نمبر: 11479
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ نَاسٍ مِنْ آلِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فَقَالُوا: اسْتَعَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗١٤٨⦘.حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ، صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کی اولاد سے نقل فرماتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے اسلحہ عاریتاً لیا، صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: عاریتاً یا زبردستی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عاریتاً۔“ اس نے تیس سے چالیس زرہیں دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حنین کی جنگ لڑی، جب اللہ نے مشرکوں کو شکست دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”صفوان کی زرہوں کو جمع کرو۔“ صحابہ نے چند زرہیں گم پائیں، آپ ﷺ نے صفوان رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اگر تو چاہے تو ہم تاوان دے دیتے ہیں۔“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! جو آج میرے دل میں ہے (ایمان) وہ اس دن نہ تھا۔