السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العارية— مانگے کى چیز کا بیان
باب: العارية مضمونة باب: ”عاریت (پر لی گئی چیز) کی ضمانت لازم ہے“۔
حدیث نمبر: 11477
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قِرَاءَةً، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَارَ إِلَى حُنَيْنٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ: ثُمَّ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فَسَأَلَهُ أَدْرَاعًا عِنْدَهُ، مِائَةَ دِرْعٍ وَمَا يُصْلِحُهَا مِنْ عُدَّتِهَا، فَقَالَ: أَغَصْبًا يَا مُحَمَّدُ؟ فَقَالَ: " بَلْ عَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ حَتَّى نُؤَدِّيَهَا عَلَيْكَ "، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَائِرًا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حنین کی طرف نکلے، پھر آپ نے صفوان بن امیہ کی طرف ایک آدمی بھیجا اور ان سے زرہوں کا سوال کیا۔ ان کے پاس ایک سو زرہیں تھیں۔ انہوں نے کہا: ”اے محمد! کیا زبردستی ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں بلکہ عاریتاً ہیں، لوٹائی جائیں گی۔ ہم تمہیں واپس کریں گے۔“ پھر آپ ﷺ غزوے میں چلے گئے۔