السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإقرار— اقرار کا بیان
باب: ما جاء في إقرار المريض لوارثه باب: بیمار شخص کے اپنے وارث کے حق میں اقرار کرنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11460
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ الدُّورِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: نُوحُ بْنُ دَرَّاجٍ كَذَّابٌ خَبِيثٌ قَضَى سِنِينَ وَهُوَ أَعْمَى، وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: ثَلَاثَ سِنِينَ، وَكَانَ لَا يُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّهُ أَعْمَى مِنْ خُبْثِهِ، قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ يَدْرِي مَا الْحَدِيثُ، وَلَا يُحْسِنُ شَيْئًا.حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نوح بن دراج کذاب خبیث شخص تھا، وہ کئی سال اندھا ہونے کی حالت میں قاضی رہا (اور ایک جگہ کہا: تین سال) اور اپنی خباثت کی وجہ سے لوگوں کو نہیں بتاتا تھا کہ وہ اندھا ہے، اس کو حدیث کا کوئی علم نہیں تھا اور نہ وہ کوئی چیز اچھی طرح جانتا تھا۔