السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإقرار— اقرار کا بیان
باب: ما جاء في إقرار المريض لوارثه باب: بیمار شخص کے اپنے وارث کے حق میں اقرار کرنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11457
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ؛ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَحَسَّسُوا، وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَنَافَسُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بدگمانی سے بچو، بیشک بدگمانی جھوٹی بات ہے اور کسی کے عیوب تلاش نہ کرو اور نہ جاسوسی کرو اور نہ ایک دوسرے سے بڑھو اور نہ حسد کرو اور نہ بغض رکھو اور نہ کسی کی پیٹھ کے پیچھے برائی بیان کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔“