السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوكالة— وکالہ کا بیان
باب: فضل النيابة عمن لا يهدي باب: جو شخص (نابینا ہونے وغیرہ کی وجہ سے) خود راستہ نہ پا سکتا ہو اس کی جانب سے نیابت (رہنمائی) کرنے کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ بِالْأَجْرِ، فَقَالَ: " أَلَسْتُمْ تُصَلُّونَ وَتَصُومُونَ وَتُجَاهِدُونَ؟ " قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، وَهُمْ يَفْعَلُونَ كَمَا نَفْعَلُ، يُصَلُّونَ وَيَصُومُونَ وَيُجَاهِدُونَ وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ، قَالَ: " إِنَّ فِيكَ صَدَقَةً كَثِيرَةً، إِنَّ فِي فَضْلِ بَيَانِكَ عَنِ الْأَرْتَمِ تُعَبِّرُ عَنْهُ حَاجَتَهُ صَدَقَةٌ، وَفِي فَضْلِ سَمْعِكَ عَلَى السَّيِّئِ السَّمْعِ تُعَبِّرُ عَنْهُ حَاجَتَهُ صَدَقَةٌ، وَفِي فَضْلِ بَصَرِكَ عَلَى ضَرِيرِ الْبَصَرِ تَهْدِيهِ الطَّرِيقَ صَدَقَةٌ، وَفِي قُوَّتِكَ عَلَى الضَّعِيفِ تُعِينُهُ صَدَقَةٌ، وَفِي إِمَاطَتِكَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَفِي مُبَاضَعَتِكَ أَهْلَكَ صَدَقَةٌ "، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيُؤْجَرُ؟ قَالَ: " أَرَأَيْتُمْ لَوْ جَعَلْتَهُ فِي غَيْرِ حِلِّهِ أَكَانَ عَلَيْكَ وِزْرٌ؟ " قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " أَفَتَحْتَسِبُونَ بِالشَّرِّ وَلَا تَحْتَسِبُونَ بِالْخَيْرِ؟ " وَرُوِّينَا هَذَا مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مالدار لوگ اجر میں بڑھ گئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نماز، روزہ اور جہاد نہیں کرتے ہو؟“ عرض کیا: کیوں نہیں، وہ بھی ایسے ہی کرتے ہیں جس طرح ہم کرتے ہیں، وہ نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں اور جہاد کرتے ہیں اور وہ صدقہ بھی کرتے ہیں، جبکہ ہم صدقہ نہیں کرتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھ میں بیشمار صدقات ہیں: بیشک تیرا کسی نہ بولنے والے کی طرف سے بول دینا جس سے اس کی حاجت پوری ہو صدقہ ہے، اور تیرا کسی نہ سننے والے کی طرف سے سن لینا جس سے اس کی کوئی حاجت پوری ہو صدقہ ہے، اور کسی نابینا کو راستہ دکھا دینا صدقہ ہے، اور تیری طاقت کا کمزور آدمی کی مدد میں لگ جانا صدقہ ہے، اور تیرا راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا صدقہ ہے، اور تیرا اپنی بیوی سے مباشرت کرنا بھی صدقہ ہے۔“ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم میں سے کوئی اپنی شہوت کو پورا کرے اور اسے اجر بھی ملے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا کیا خیال ہے اگر تو اسے غیر محل میں پورا کرے تو تجھے گناہ ہوگا؟“ کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم شر کا خیال کرتے ہو اور بھلائی کا خیال نہیں کرتے؟“