السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوكالة— وکالہ کا بیان
باب: فضل النيابة عمن لا يهدي باب: جو شخص (نابینا ہونے وغیرہ کی وجہ سے) خود راستہ نہ پا سکتا ہو اس کی جانب سے نیابت (رہنمائی) کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 11439
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ فِيمَا أَظُنُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " إِيمَانٌ بِاللهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللهِ "، قَالَ: فَأِيُّ الْعَتَاقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " أَنْفَسُهَا "، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ؟ قَالَ: " فَتُعِينُ الصَّانِعَ، وَتَصْنَعُ لِأَخْرَقَ "، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟ قَالَ: " تَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّكَ؛ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخَرْجَاهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا“، اس نے پوچھا: کون سی گردن آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو مالک کی نظر میں زیادہ پسندیدہ ہو“، اس نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے اگر میں ایسا نہ پاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی کاریگر کی مدد کر یا کسی «أَخْرَقَ» کی“، اس نے کہا: اگر میں اس کی بھی طاقت نہ رکھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کر دے، یہ بھی صدقہ ہے جسے تم خود اپنے اوپر کرو گے“۔