السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشركة— شرکت کا بیان
باب: الاشتراك في الأموال والهدايا باب: اموال اور تحائف میں شراکت داری کا بیان۔
حدیث نمبر: 11423
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ قَائِدِ السَّائِبِ، عَنِ السَّائِبِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلُوا يُثْنُونَ عَلَيَّ وَيَذْكُرُونَنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِهِ "، قُلْتُ: صَدَقْتَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، كُنْتَ شَرِيكِي فَنِعْمَ الشَّرِيكُ كُنْتَ، لَا تُدَارِي وَلَا تُمَارِي.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سائب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، لوگ میری تعریف اور میرا تذکرہ کر رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔“ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ نے سچ کہا، آپ ﷺ میرے شریک تھے، کتنے ہی اچھے شریک۔ نہ آپ ﷺ لڑتے تھے اور نہ جھگڑتے تھے۔