السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلح— صلح کا بیان
باب: ارتفاق الرجل بجدار غيره بوضع الجذوع عليه بأجرة وغير أجرة باب: کسی آدمی کا دوسرے کی دیوار پر معاوضے کے ساتھ یا بغیر معاوضے کے شہتیر رکھ کر فائدہ اٹھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11380
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاجْعَلُوهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ، وَمَنْ بَنَى بِنَاءً فَلْيَدْعَمْهُ بِحَائِطِ جَارِهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں راستے کے بارے میں اختلاف ہو جائے تو اسے سات ہاتھ چھوڑ دو اور جو مکان بنائے، اسے اپنے ہمسائے کی دیوار کے ساتھ ستون رکھنا چاہیے۔“