السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلح— صلح کا بیان
باب: ارتفاق الرجل بجدار غيره بوضع الجذوع عليه بأجرة وغير أجرة باب: کسی آدمی کا دوسرے کی دیوار پر معاوضے کے ساتھ یا بغیر معاوضے کے شہتیر رکھ کر فائدہ اٹھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11376
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدُكُمْ جَارَهُ مَوْضِعَ خَشَبَةٍ أَنْ يَجْعَلَهَا فِي جِدَارِهِ " ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ؟ وَاللهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ. إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے ہمسائے کو لکڑی کی جگہ دینے سے منع نہ کرے کہ وہ اسے اس کی دیوار میں لگائے۔“ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے: ”کیا بات ہے کہ میں تمہیں اس سے اعراض کرتے دیکھتا ہوں؟ اللہ کی قسم! میں تو اس حدیث کو تمہارے درمیان بیان کرتا ہی رہوں گا۔“
یہ سند صحیح ہے۔